عن جامعة القرآن
تعلم القرآن
التفاسير
التراجم
عربي
English
✓
عربي
1
ياسر احمد عباس
نشط
الجزء
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
السورة
الفاتحة
البقرة
آل عمران
النساء
المائدة
الأنعام
الأعراف
الأنفال
التوبة
يونس
هود
يوسف
الرّعد
إبراهيم
الحجر
النحل
الإسراء
الكهف
مريم
طه
الأنبياء
الحج
المؤمنون
النّور
الفرقان
الشعراء
النمل
القصص
العنكبوت
الروم
لقمان
السجدة
الأحزاب
سبإ
فاطر
يس
الصّافّات
ص
الزمر
غافر
فصّلت
الشورى
الزخرف
الدخان
الجاثية
الأحقاف
محمّـد
الفتح
الحُـجُـرات
ق
الذاريات
الـطور
الـنحـم
الـقمـر
الـرحـمـن
الواقعة
الحـديد
الـمجادلـة
الـحـشـر
الـمـمـتـحنة
الـصّـف
الـجـمـعـة
الـمنافقون
الـتغابن
الـطلاق
الـتحريم
الـملك
الـقـلـم
الـحاقّـة
الـمعارج
نوح
الجن
الـمـزّمّـل
الـمّـدّثّـر
الـقـيامـة
الإنسان
الـمرسلات
الـنبإ
الـنازعات
عبس
التكوير
الانفطار
المطـفـفين
الانشقاق
البروج
الـطارق
الأعـلى
الغاشـيـة
الفجر
الـبلد
الـشـمـس
اللـيـل
الضـحى
الـشرح
الـتين
الـعلق
الـقدر
الـبينة
الـزلزلة
الـعاديات
الـقارعـة
الـتكاثر
الـعصر
الـهمزة
الـفيل
قريش
المـاعون
الـكوثر
الـكافرون
الـنصر
الـمسد
الإخلاص
الـفلق
الـناس
الصفحة
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
177
178
179
180
181
182
183
184
185
186
187
188
189
190
191
192
193
194
195
196
197
198
199
200
201
202
203
204
205
206
207
208
209
210
211
212
213
214
215
216
217
218
219
220
221
222
223
224
225
226
227
228
229
230
231
232
233
234
235
236
237
238
239
240
241
242
243
244
245
246
247
248
249
250
251
252
253
254
255
256
257
258
259
260
261
262
263
264
265
266
267
268
269
270
271
272
273
274
275
276
277
278
279
280
281
282
283
284
285
286
287
288
289
290
291
292
293
294
295
296
297
298
299
300
301
302
303
304
305
306
307
308
309
310
311
312
313
314
315
316
317
318
319
320
321
322
323
324
325
326
327
328
329
330
331
332
333
334
335
336
337
338
339
340
341
342
343
344
345
346
347
348
349
350
351
352
353
354
355
356
357
358
359
360
361
362
363
364
365
366
367
368
369
370
371
372
373
374
375
376
377
378
379
380
381
382
383
384
385
386
387
388
389
390
391
392
393
394
395
396
397
398
399
400
401
402
403
404
405
406
407
408
409
410
411
412
413
414
415
416
417
418
419
420
421
422
423
424
425
426
427
428
429
430
431
432
433
434
435
436
437
438
439
440
441
442
443
444
445
446
447
448
449
450
451
452
453
454
455
456
457
458
459
460
461
462
463
464
465
466
467
468
469
470
471
472
473
474
475
476
477
478
479
480
481
482
483
484
485
486
487
488
489
490
491
492
493
494
495
496
497
498
499
500
501
502
503
504
505
506
507
508
509
510
511
512
513
514
515
516
517
518
519
520
521
522
523
524
525
526
527
528
529
530
531
532
533
534
535
536
537
538
539
540
541
542
543
544
545
546
547
548
549
550
551
552
553
554
555
556
557
558
559
560
561
562
563
564
565
566
567
568
569
570
571
572
573
574
575
576
577
578
579
580
581
582
583
584
585
586
587
588
589
590
591
592
593
594
595
596
597
598
599
600
601
602
603
604
وَإِذا نادَيتُم إِلَى الصَّلوٰةِ اتَّخَذوها هُزُوًا وَلَعِبًا ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قَومٌ لا يَعقِلونَ
58
قُل يٰأَهلَ الكِتٰبِ هَل تَنقِمونَ مِنّا إِلّا أَن ءامَنّا بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ إِلَينا وَما أُنزِلَ مِن قَبلُ وَأَنَّ أَكثَرَكُم فٰسِقونَ
59
قُل هَل أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِن ذٰلِكَ مَثوبَةً عِندَ اللَّهِ ۚ مَن لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيهِ وَجَعَلَ مِنهُمُ القِرَدَةَ وَالخَنازيرَ وَعَبَدَ الطّٰغوتَ ۚ أُولٰئِكَ شَرٌّ مَكانًا وَأَضَلُّ عَن سَواءِ السَّبيلِ
60
وَإِذا جاءوكُم قالوا ءامَنّا وَقَد دَخَلوا بِالكُفرِ وَهُم قَد خَرَجوا بِهِ ۚ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما كانوا يَكتُمونَ
61
وَتَرىٰ كَثيرًا مِنهُم يُسٰرِعونَ فِى الإِثمِ وَالعُدوٰنِ وَأَكلِهِمُ السُّحتَ ۚ لَبِئسَ ما كانوا يَعمَلونَ
62
لَولا يَنهىٰهُمُ الرَّبّٰنِيّونَ وَالأَحبارُ عَن قَولِهِمُ الإِثمَ وَأَكلِهِمُ السُّحتَ ۚ لَبِئسَ ما كانوا يَصنَعونَ
63
وَقالَتِ اليَهودُ يَدُ اللَّهِ مَغلولَةٌ ۚ غُلَّت أَيديهِم وَلُعِنوا بِما قالوا ۘ بَل يَداهُ مَبسوطَتانِ يُنفِقُ كَيفَ يَشاءُ ۚ وَلَيَزيدَنَّ كَثيرًا مِنهُم ما أُنزِلَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ طُغيٰنًا وَكُفرًا ۚ وَأَلقَينا بَينَهُمُ العَدٰوَةَ وَالبَغضاءَ إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ ۚ كُلَّما أَوقَدوا نارًا لِلحَربِ أَطفَأَهَا اللَّهُ ۚ وَيَسعَونَ فِى الأَرضِ فَسادًا ۚ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ المُفسِدينَ
64
Page : 118
قائمة التفاسير
اعدادات التفسير
Jalal ad-Din al-Mahalli and Jalal ad-Din as-Suyuti
Tafseer Al-Maiser
Tafseer e Makki
Tafseer e Usmani
Imam Ibn Kaseer (Hafiz Imaduddin Abulfida)
Jalal ad-Din al-Mahalli and Jalal ad-Din as-Suyuti
«و» الذين «إذا ناديتم» دعوتم «إلى الصلاة» بالأذان «اتخذوها» أي الصلاة «هزوا ولعبا» بأن يستهزئوا بها ويتضاحكوا «ذلك» الاتخاذ «بأنهم» أي بسبب أنهم «قوم لا يعقلون».
Tafseer Al-Maiser
وإذا أذَّن مؤذنكم -أيها المؤمنون- بالصلاة سخر اليهود والنصارى والمشركون واستهزؤوا من دعوتكم إليها؛ وذلك بسبب جهلهم بربهم، وأنهم لا يعقلون حقيقة العبادة.
Tafseer e Makki
٥٨۔١ حدیث میں آتا ہے کہ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو پاد مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے، جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے، تکبیر کے وقت پھر پیٹھ پھیر کر چل دیتا ہے، جب تکبیر ختم ہوتی ہے تو پھر آ کر نمازیوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرتا ہے، شیطان ہی کی طرح شیطان کے پیروکاروں کو اذان کی آواز اچھی نہیں لگتی، اس لئے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حدیث رسول بھی قرآن کی دین کا ماخذ اور اسی طرح حجت ہے۔ کیونکہ قرآن نے نماز کے لئے ' ندا ' کا تو ذکر کیا ہے لیکن یہ ' ندا 'کس طرح دی جائے گی؟ اس کے الفاظ کیا ہوں گے؟ یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے۔ یہ چیزیں حدیث سے ثابت ہیں، جو اس کی حجیت اور ماخذ دین ہونے پر دلیل ہیں۔ حجت حدیث کا مطلب : حدیث کے ماخذ دین اور حجت شرعیہ ہونے کا مطلب ہے، کہ جس طرح قرآن سے ثابت ہونے والے احکام و فرائض پر عمل کرنا ضروری ہے اور ان کا انکار کفر ہے۔ اس طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونے والے احکام کا ماننا بھی فرض ہے، ان پر عمل کرنا ضروری اور ان کا انکار کفر ہے۔صحیح حدیث چاہے متواتر ہو یا آحاد، قولی ہو، فعلی ہو یا تقریری۔ یہ سب قابل عمل ہیں۔ حدیث کا خبر واحد کی بنیاد پر یا قرآن سے زائد ہونے کی بنیاد پر یا ائمہ کے قیاس واجتہاد کی بنیاد پر یا راوی کی عدم فقاہت کے دعویٰ کی بنیاد پر یا عقلی استحالے کی بنیاد پر یا اسی قسم کے دیگر دعوؤں کی بنیاد پر، رد کرنا صحیح نہیں ہے۔ یہ سب حدیث سے اعراض کی مختلف صورتیں ہیں۔
Tafseer e Usmani
ف۷ یعنی جب اذان کہتے ہو تو اس سے جلتے ہیں اور ٹھٹھا کرتے ہیں جو ان کی کمال حماقت اور بے عقلی کی دلیل ہے۔ کلمات اذان میں خداوند قدوس کی عظمت و کبریاء کا اظہار، توحید کا اعلان، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام انبیاء سابقین اور کتب سماویہ کے مصدق ہیں، ان کی رسالت کا اقرار۔ نماز جو تمام اوضاع عبودیت کو جامع اور غایت درجہ کی بندگی پر دال ہے، اس کی طرف دعوت، فلاح دارین اور اعلیٰ سے اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے کے لئے بلاوا، ان چیزوں کے سوا اور کیا ہوتا ہے پھر اس میں کونسی چیز ہے جو ہنسی اڑانے کے قابل ہو ایسی نیکی اور حق و صداقت کی آواز پر مسخرا پن کرنا صرف اسی شخص کا کام ہو سکتا ہے جس کا دماغ عقل سے یکسر خالی ہو اور جسے نیک و بد کی قطعاً تمیز باقی نہ رہے۔ بعض روایات میں ہے کہ مدینہ میں ایک نصرانی جب اذان میں اشھد ان محمدًا رسول اللّٰہ سنتا تو کہتا "قد حرق الکاذب" (جھوٹا جل گیا یا جل جائے) اس کی نیت تو ان الفاظ سے جو کچھ ہو، مگر یہ بات بالکل اس کے حسب حال تھی۔ کیونکہ وہ خبیث جھوٹا تھا اور اسلام کا عروج و شیوع دیکھ کر آتش حسد میں جلا جاتا تھا۔ اتفاقاً ایک شب میں کوئی چھوکری آگ لے کر اس کے گھر میں آئی۔ وہ اور اس کے اہل و عیال سو رہے تھے ذرا سی چنگاری نادانستہ اس کے ہاتھ سے گرگئی جس سے سارا گھر مع سونے والوں کے جل گیا اور اس طرح خدا نے دکھلا دیا کہ جھوٹے لوگ دوزخ کی آگ سے پہلے ہی دنیا کی آگ میں کس طرح جل جاتے ہیں۔ اذان کے ساتھ استہزاء کرنے کا ایک اور واقعہ صحیح روایات میں منقول ہے وہ یہ کہ فتح مکہ کے بعد آپ حنین سے واپس ہو رہے تھے۔ راستہ میں حضرت بلال نے اذان کہی، چند نو عمر لڑکے جن میں ابو محذورہ بھی تھے، اذان کی ہنسی اور نقل کرنے لگے، آپ نے سب کو پکڑ بلوایا۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ابو محذورہ کے دل میں خدا نے اسلام ڈال دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکہ کا موذن مقرر فرما دیا۔ اس طرح خدا کی قدرت نقل سے اصل بن گئی۔
Imam Ibn Kaseer (Hafiz Imaduddin Abulfida)